*الفاظ بھی پھولوں کی طرح ہوتے ہیں، اُنہیں سوچ سمجھ کر ادا کیا کریں۔۔۔۔* *اُن میں سے آپ کے ظرف کی مہک آتی ہے۔۔!!🫠🌹🎀**الفاظ بھی پھولوں کی طرح ہوتے ہیں، اُنہیں سوچ سمجھ کر ادا کیا کریں۔۔۔۔* *اُن میں سے آپ کے ظرف کی مہک آتی ہے۔۔!!🫠🌹🎀*
*اپنے بیٹے کو روتا دیکھ کر اگر آپ کا پہلا جملہ ہوتا ہے،* *’مرد ہو کر رو رہے ہو؟* `‘ تو ذرا رک جائیے…`
جی ہاں، وہ لڑکا ہے… مگر انسان بھی تو ہے۔
"مرد ہو، مضبوط بنو!"
مضبوط ہونے کا مطلب یہ کب سے ہوگیا کہ درد بھی محسوس نہ کرے، آنکھ بھی نہ بھرے اور دل بھی نہ دکھے؟
ہم اپنے بیٹوں کو مضبوط بناتے بناتے ک…*اپنے بیٹے کو روتا دیکھ کر اگر آپ کا پہلا جملہ ہوتا ہے،* *’مرد ہو کر رو رہے ہو؟* `‘ تو ذرا رک جائیے…`
جی ہاں، وہ لڑکا ہے… مگر انسان بھی تو ہے۔
"مرد ہو، مضبوط بنو!"
مضبوط ہونے کا مطلب یہ کب سے ہوگیا کہ درد بھی محسوس نہ کرے، آنکھ بھی نہ بھرے اور دل بھی نہ دکھے؟
ہم اپنے بیٹوں کو مضبوط بناتے بناتے کبھی کبھی ان کے اندر بہت کچھ دبا دیتے ہیں۔
درد، خوف، آنسو، خواہشیں، الجھنیں… سب کچھ۔
پھر ایک دن یہی دبا ہوا سب کچھ غصے، ضد، چڑچڑے پن یا غلط رویّوں کی صورت میں باہر آتا ہے، اور ہم کہتے ہیں:
"پتا نہیں ہمارا بیٹا ایسا کیوں ہوگیا؟"
کبھی یہ بھی تو سوچیں کہ ہم نے اسے اپنے جذبات کا اظہار کرنا سکھایا ہی کب تھا؟
"لوگ کیا کہیں گے؟"
لوگ تو کچھ بھی کہیں گے۔
مگر آپ اپنے بیٹے سے بس اتنا کہہ دیں:
"رو لو بیٹا، میں تمہارے ساتھ ہوں۔"
اور صرف یہ کہنا کافی نہیں۔ اسے یہ بھی سکھائیں کہ جب غصہ آئے تو بات کرے، جب دل دکھے تو اسے لفظ دے، جب الجھن ہو تو کسی قابلِ اعتماد شخص سے مدد مانگے، اور جب جذبات بہت شدید ہوں تو چند لمحے رک کر خود کو سنبھالے۔
اس کی ہر غلط حرکت کو "وہ تو لڑکا ہے" کہہ کر نظرانداز بھی نہ کریں، بلکہ جذبات کو قبول کریں اور غلط رویّے کی اصلاح کریں۔
کیونکہ بیٹوں کو صرف مضبوط ہونا نہیں سکھانا، اپنے جذبات کو صحیح طریقے سے سنبھالنا بھی سکھانا ہے۔
اور یاد رکھیے:
جذبات کو دبانا تربیت نہیں، انہیں صحیح سمت دینا تربیت ہے۔
*پھر چڑھا آسمان کو اور وہ دھواں ہو رہا تھا پھر کہا اس کو اور زمین کو آؤ تم دونوں خوشی…۔ *📚📜 خوبصورت بات 📜📚* ۔ *︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘︘* `زمین و آسماں کی تخلیق`
اپنے ظرف کو اتنا وسیع کریں ، کہ اگر کوئی تنقید کرے تو آپ جذب کر سکیں ، اور اگر کوئی تعریف کرے تو آپ بہہ نہ جائیں ، کیونکہ اصل مضبوطی ہی یہی ہے کہ انسان ہر حال میں برابر رہے ، نہ تنقید میں غصہ کرے ، نہ تعریف پر غرور کرے۔۔۔!!اپنے ظرف کو اتنا وسیع کریں ، کہ اگر کوئی تنقید کرے تو آپ جذب کر سکیں ، اور اگر کوئی تعریف کرے تو آپ بہہ نہ جائیں ، کیونکہ اصل مضبوطی ہی یہی ہے کہ انسان ہر حال میں برابر رہے ، نہ تنقید میں غصہ کرے ، نہ تعریف پر غرور کرے۔۔۔!!
کبھی کبھی زندگی میں کوئی پھول دینے والا نہیں ہوتا ، تو شکوہ مت کریں ، اپنے اندر اتنی روشنی پیدا کریں کہ آپ خود اپنی بہار بن جائیں ، لوگ آپ کی زندگی میں آئیں یا نہ آئیں ، آپ اپنی قدر اپنی خوشی اور اپنے سکون کے ذمہ دار خود بنیں ، ہر موسم میں پھول کھلیں یہ ضروری نہیں ، کبھی انسان کو خود ہی اپنے اندر بہ…کبھی کبھی زندگی میں کوئی پھول دینے والا نہیں ہوتا ، تو شکوہ مت کریں ، اپنے اندر اتنی روشنی پیدا کریں کہ آپ خود اپنی بہار بن جائیں ، لوگ آپ کی زندگی میں آئیں یا نہ آئیں ، آپ اپنی قدر اپنی خوشی اور اپنے سکون کے ذمہ دار خود بنیں ، ہر موسم میں پھول کھلیں یہ ضروری نہیں ، کبھی انسان کو خود ہی اپنے اندر بہار پیدا کرنی پڑتی ہے۔۔۔!! Imran King UK
We use cookies to keep you signed in and to remember your preferences.
With your consent we also use cookies for ads that help fund creator payouts.
Read our Privacy Policy
for details.
Be the first to comment.