Muhammad Imran Khan
@ImranKingUK · ID #6
🗑
Delete selected items?
item(s) will be permanently deleted. This cannot be undone.
reactionPickerOpen = true, 500))"
@touchend="clearTimeout(reactionPickerTimer)">
*آج ہفتہ ہے!!*
*یہ "msg" دس لوگوں کو* *"forWard" کریں۔۔*
*کل انشاءاللّٰہ اتوار ہوگا۔۔* 🌝 *یہ "msg" دس لوگوں کو* *"forWard" کریں۔۔*
*کل انشاءاللّٰہ اتوار ہوگا۔۔* 🌝
*کل انشاءاللّٰہ اتوار ہوگا۔۔* 🌝 *یہ "msg" دس لوگوں کو* *"forWard" کریں۔۔*
*کل انشاءاللّٰہ اتوار ہوگا۔۔* 🌝
•
1 shares
reactionPickerOpen = true, 500))"
@touchend="clearTimeout(reactionPickerTimer)">
Be the first to comment.
قصہ لعط علیہ السلام
(نواں حصہ)
مفسّرین لکھتے ہیں کہ حضرت لوطؑ حقیقتِ حال جان کر مطمئن ہو گئے اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رات ہی کو نکل کھڑے ہوئے۔ بیوی بھی اُن کے ساتھ تھی، لیکن کچھ دُور جا کر وہ واپس اپنی قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنّم رسید ہو گئی۔ قوم، حضرت لوطؑ کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھی، چناں چہ حض…
(نواں حصہ)
مفسّرین لکھتے ہیں کہ حضرت لوطؑ حقیقتِ حال جان کر مطمئن ہو گئے اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رات ہی کو نکل کھڑے ہوئے۔ بیوی بھی اُن کے ساتھ تھی، لیکن کچھ دُور جا کر وہ واپس اپنی قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنّم رسید ہو گئی۔ قوم، حضرت لوطؑ کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھی، چناں چہ حضرت جبرائیل علیہ السّلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پَر کا ایک کونا اُنہیں مارا، جس سے اُن سب کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے اور بصارت زائل ہو گئی۔ یہ خاص عذاب اُن لوگوں کو پہنچا، جو حضرت لوط ؑ کے پاس بدنیّتی سے آئے تھے۔ صبح عذابِ عام میں پوری قوم تباہ ہو گئی۔ (ابنِ کثیر) قرآنِ کریم میں ارشاد ہے’’اور اُنہوں نے (لوطؑ) سے اُن کے مہمانوں کو لینا چاہا، تو ہم نے اُن کی آنکھیں اندھی کر دیں۔‘‘ (سورۃ القمر : 37)
عذاب کی ابتداء ۔
ابھی صبح کا آغاز ہی ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حُکم سے حضرت جبرائیلؑ نے بستی کو اپنے پَر سے اکھیڑا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے، حتیٰ کہ آسمان والوں نے بستی کے کُتّوں کے بھونکنے اور مُرغوں کے بولنے کی آوازیں سُنیں، پھر اُس بستی کو زمین پر دے مارا، جس کے بعد اُن پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔ جب یہ پتھر اُن کو لگتے، تو سر پاش پاش ہو جاتے۔ صبح سویرے شروع ہونے والا یہ عذاب، اشراق تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چُکا تھا۔ اگر کوئی شخص بستی سے باہر تھا، تو اُسے وہ پتھر اُسی جگہ جا لگا، جہاں وہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا ’’پھر جب ہمارا حُکم پہنچا، تو ہم نے وہ بستیاں اُلٹ دیں اور اُس زمین پر کھنگر کے پتھر برسانا شروع کیے، جو لگاتار گر رہے تھے۔ جن پر تمہارے ربّ کی طرف سے خاص نشان بھی تھے اور وہ ظالموں سے کچھ دُور نہیں۔‘‘ (سورۂ ھود: 81-82)
حضرت جبریل علیہ السلام نے شہر کو اس آہستگی سے اٹھایا کہ نہ تو کسی برتن کا پانی گرا اور نہ کوئی سونے والا بے دار ہوا اور پھر اس بلندی سے اُن کو اوندھا کرکے پلٹا دیا اور پھر اُن پر جو پتّھر برسائےاُن پر ایسا نشان تھا، جس سے وہ دوسروں سے ممتاز تھے۔ قتادہؒ نے کہا کہ ان پرمُہریں لگی ہوئی تھیں۔ ایک قول یہ ہے کہ جس پتّھر سے جس شخص کی ہلاکت منظور تھی، اُس کا نام اس پتّھر پر لکھا تھا۔ (کنزالایمان،صفحہ 332)۔
جاری ہے۔
reactionPickerOpen = true, 500))"
@touchend="clearTimeout(reactionPickerTimer)">
Be the first to comment.
Muhammad Imran Khan
shared
Friendse Official's post
reactionPickerOpen = true, 500))"
@touchend="clearTimeout(reactionPickerTimer)">
Be the first to comment.
🎬
No videos in posts yet.
◉
No active Status.
So cute 🥰